Pen Pal

Anonymous Letter #1

قارئین کے نام یعنی میرے رفقاء کے نام

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔

کیا ہو گیا ہے؟ دل میں اس قدر ویرانی کیوں ہے؟ کیا کوئی خواب ہے جو اپنی تعبیر کی تلاش میں ہے؟ ہاں خواب ہی ہوں گے یا خواہش یا کوئی دیرینہ حسرت۔ جو دل میں اپنے پنجے گاڑے بیٹھے ہیں۔ ایسے کہ دل سے دھیرے دھیرے خون رس رہا ہے۔ زخم ہر گزرتے دن گہرا ہوتا جا رہا ہے نا؟ سنو! اپنے خوابوں کو کندھے پر بیٹھی چڑیل مت بننے دو کہ وہ تمہارا حصہ بن کر آہستہ آہستہ تنہارا خون پی جائیں۔ اپنے آپ کو اپنے خواب کا غلام مت بننے دو بلکہ انہیں اپنے تابع کرو۔ تمہارے خواب، تمہاری خواہش تمہاری خوشیوں کے اسباب ہونے چاہیے کہ جب تم ان کو سوچو تو تمہارے حسین چہرے پر رونق ہو جائیں۔ اور چہرے پر بکھرتی مسکراہٹ اور دل میں اٹھنے والے جوش کا ہاتھ تھام کر تم ان کی خواہشات کی تکمیل اور خوابوں کی تعبیر کی تلاش میں نکل پڑو۔ اپنے خواب کے گرد خود کو قید مت کرو ورنہ ایک دن خود کو کھو دو گے اور تلاش بھی نہیں کر پاؤ گے۔

آپ کی قلمی ساتھی

~ Pen Pal


Safar-e-Adab Letters

The letter I couldn’t send

Some letters are never sent.
Not because they weren’t written, but because they were too heavy, too honest, or too fragile to carry a name.

Safar-e-Adab Letters is a space for those words.

Here, you can write and publish a letter without revealing who you are.
No name. No identity. No trace.

Read this guide to know more


Discover more from Safar-e-Adab

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *