Ajab Behis Si Larki Hai
Aroshma Khan
Aroshma Khan
احمد طارق درکار تھا قرار بلانا پڑا اسے آواز دی تو لوٹ کے آنا پڑا اسے میں کون ہوں کہاں سے ہوں اور کس کا پیار ہوں بھولا ہوا تھا مجھ کو بتانا پڑا اسے جاتے ہوئے سبھی سے ملایا تھا اس نے ہاتھ اور سب میں میں بھی تھا سو ملانا پڑا اسے میری …
مرزا غالب ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے وگرنہ خوف بد آموزی …
عادل رضا منصوری چاند تارے بنا کے کاغذ پر خوش ہوئے گھر سجا کے کاغذ پر بستیاں کیوں تلاش کرتے ہیں لوگ جنگل اگا کے کاغذ پر جانے کیا ہم سے کہہ گیا موسم خشک پتا گرا کے کاغذ پر ہنستے ہنستے مٹا دیے اس نے شہر کتنے بسا کے کاغذ پر ہم نے چاہا …
متین نیازی ہائے اردو یہ سیاست تری جاگیر کے ساتھ کوئی غالبؔ کا طرفدار کوئی میرؔ کے ساتھ زندگی ایک سفر خوف کی زنجیر کے ساتھ موت اک خواب گراں حشر کی تعبیر کے ساتھ ہر ادا حسن کی محفوظ ہے تاثیر کے ساتھ بولتی چلتی تھرکتی ہوئی تصویر کے ساتھ ضبط کی حد سے …
عظیم الدین ساحل کلم نوری اردو کا نمک جو کھاتے ہیں اردو پہ گزارا کرتے ہیں اس بات کا دکھ ہے لوگ وہی اردو سے کنارا کرتے ہیں مت دیکھ حقارت سے ان کو اندازہ نہیں ہے تجھ کو ابھی شبنم کے یہ ننھے قطرے بھی شعلے کو شرارا کرتے ہیں اپنوں سے گلہ ہم …
پروین شاکر شب وہی لیکن ستارہ اور ہے اب سفر کا استعارہ اور ہے ایک مٹھی ریت میں کیسے رہے اس سمندر کا کنارہ اور ہے موج کے مڑنے میں کتنی دیر ہے ناؤ ڈالی اور دھارا اور ہے جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا تیر سینے میں اتارا اور ہے متن میں تو …
ساحر لدھیانوی کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیں بارہا ایسے سوالات پہ رونا آیا …