Tum Abhi Say Dartay Ho

By Ommay Romman Ahmad

Self-Published

Genre: Historical, Political allegory, Philosophical drama
Status: Complete
Instagram Handle: @binteahmadmalik06

تم ابھی سے ڈرتے ہو

اندھیرے ہمیشہ باہر نہیں ہوتے، کچھ تاریکیاں تم اپنے اندر بھی پاؤ گے،بس ادراک کا وہ ایک لمحہ نصیب ہونے کی دیر ہے۔
“تم ابھی سے ڈرتے ہو” ایک ایسی کہانی ہے جو خوف کے انہی پوشیدہ سایوں کو بے نقاب کرتی ہے— وہ خوف جو ہمیں جینے نہیں دیتا، سوچنے نہیں دیتا، اور سچ کو قبول کرنے سے ہمیشہ روکے رکھتا ہے۔

یہ افسانہ ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں خاموشی کوامن و تحفظ اور سوال کو خطرہِ جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس شہرِ خاموشاں کی فضا میں ایک کردار ایسا بھی ہے جو نہ صرف باہر کے اندھیروں سے، بلکہ اپنے کے اندر پوشیدہ ہر خوف سے بھی بلا جھجک مقابلہ کرتا ہے۔

چراغ، شاہی کتب خانہ اور ضیاع صاحب سے ملاقات —یہ سب شعور، سچائی اور بغاوت کے گواہان ہیں۔
یہ کہانی ہمیں آپ کو سوچنے پر مجبور کرے گی ہے کہ اصل قید دیواروں میں مقید رہنا ہے یا زبان کا منہ میں۔

“تم ابھی سے ڈرتے ہو” صرف ایک افسانہ نہیں، بلکہ ایک سوال ہے—
کیا ہم واقعی آزاد ہیں، یا اپنے ہی خوف کے اسیر؟

یہ تحریر ان لوگوں کے لیے ہے جو اندھیرے کو دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں… اور روشنی جلانے کا حوصلہ بھی۔

Tum Abhi Say Darte Ho

“Tum Abhi Se Darte Ho” is a deeply symbolic and introspective short story that explores the anatomy of fear—the kind that silences voices, restrains thought, and keeps truth hidden beneath layers of quiet submission.

Set in a suffocating world where silence is mistaken for safety and questioning is treated as rebellion, the narrative follows the emergence of a consciousness that dares to confront both external oppression and the invisible fears rooted within the human mind.


Discover more from Safar-e-Adab

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *